Showing posts with label تصاویر. Show all posts
Showing posts with label تصاویر. Show all posts

Friday, 2 March 2012

استاد نے سبق پڑھادیا

استاد کا وہ سبق جو وہ عملاً پڑھاتا ہے طلبہ کے لئے لائحہ عمل بن جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک سبق افغانستان کے اس استاد نے اپنی جان دے کر پڑھادیا۔ اللہ تعالٰی ہمیں بھی ایسے استاد بننے کی توفیق دے۔ آمین


Saturday, 26 November 2011

باہمت بچے


Boys of Courage The Eastern Public School & College Mirpurkhas
Dawn News Story
باہمت بچے، دی ایسٹرن پبلک اسکول اینڈ کالج میرپور خاص
ڈان نیوز کی خبر



News Night with Talat Civil Hospital Mirpurkhas
نیوز نائٹ ود طلعت سول ہسپتال میرپور خاص


Waqt News Civil Hospital Mirpurkhas
وقت نیوز سول ہسپتال میرپور خاص



Journey Of Light
رحلۃ النور
روشنی کا سفر

Sunday, 20 November 2011

یوم ثقافت یا یوم بے حیائی

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہِ الکریم۔ اما بعد۔

بات ہی کچھ ایسی ہے کہ کافی دنوں بعد آج قلم اٹھانا ہی پڑا۔
عصبیت کی دو دھاری تلوار پھیلتے ہوئے اسلام کو روکنے کے لئے میان سے نکال لی گئی ہے۔اور یہ سلسلہ کئی دنوں سے مختلف ناموں سے جاری ہے۔ میرا اشارہ فی الحال سندھ میں منائے جانے والے یوم بے حیائی کی طرف ہے۔ جسے عصبیت کا رنگ دینے کے لئے جان بوجھ کر ثقافت اور ٹوپی اجرک سے منسوب کیا گیا ہے۔
بے حیائی کے اس سیلاب کو مناسب راستہ دینے کے لئے لوک اور جدید سندھی گیتوں کا سہارا لیا جارہا ہے تو کبھی اسے عید کا دن کہا جارہا ہے۔ میرے غیور سندھی بھائیو
کیا یہی ہماری ثقافت ہے۔؟
کیا ہماری ثقافت ہمیں یہ سکھاتی ہےکہ اپنی خواتین کو چوکوں ، چوراہوں، شاہرائوں اور پریس کلب کے سامنے لا کر رقص کروائیں؟
 اور پھر ان مناظر کی تصاویر میڈیا اور ٹی وی چینلز پر بھی چلائی جائیں؟
کیا ہماری ثقافت میں دوپٹہ یا چادر نام کی کوئی چیز خواتین کے لئے نہیں کہ انہیں بھی سر پر سندھی ٹوپی رکھنا پڑے؟
کیا ہم اسلام قبول نہیں کر چکے یا ابھی دور جاہلیت کے اسی گند میں لتھڑے ہیں؟
کیا اسلام کی اپنی ایک جدا گانہ ثقافت نہیں؟
اور کیا ہماری ثقافت بعض ملبوسات اورگیتوں پر رقص کے علاوہ کچھ نہیں؟
کیا رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصبیت سے منع نہیں کیا؟
کیا اسلام میں عیدِین متعین نہیں کہ ہمیں مزید کوئی عید ایجاد کرنی پڑے؟
اللہ کے لئے میری ان گزارشات پر غور کیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق برائی کو ہاتھ یازبان سے روکناحد درجہ ضرور ی ہے۔ دل میں برا جاننا تو ایمان کا آخری درجہ ہے۔یہ لوگ قطعا ہماری ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ہم بحیثیت مسلمان اورسندھی قوم شرم وحیا اور  غیرت کے امین ہیں۔ہماری ثقافت  میں عصبیت اور بے حیائی کی کوئی گنجائش نہیں۔ صرف سندھی ٹوپی پہننے یا اجرک اوڑھ لینے سے کوئی ہماری ثقافت کا نمائندہ نہیں بن سکتا۔

ابو صارم
۲۰۔ نومبر ۲۰۱۱
Tags: Sindhi Cultural day 20 November 2011, Ajrak topi day, سندھی یومِ ثقافت، اجرک، ٹوپی

Friday, 18 November 2011

حیدر آباد میں قرآن اور اسلام کے خلاف نعرے بازی

اور یہ وقت بھی ہمیں اپنی آنکھوں سے دیکھنا  تھا

Sunday, 30 October 2011

تماشہ دکھا کر مداری گیا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

جنگ ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۱

Friday, 21 October 2011

صارم کی تصاویر

کچھ لوگوں کی فرمائش پر صارم کی تصاویر دوبارہ لگا رہا ہوں۔ ۔ ۔ شاید موازنہ کرنا آسان ہوجائے نئے والے سے




Tuesday, 11 October 2011

صارم کا نومولود پارٹنر، میرا دوسرا بیٹا

تاریخ پیدائش: ۱۱۔ اکتوبر ۲۰۱۱

بمطابق: ۱۲ ذیقعد ۱۴۳۲ ھ

بروز: منگل

وقت: ۲:۰۵ دوپہر

عمر: ۳ گھنٹے